غزل
لکھاری، شاعر
مرے دل پہ اب تک ترا ہی نشاں ہے
مگر تم مرے ہو، یہ کیسا گماں ہے
کبھی تم نہ آئے، کبھی ہم نہ پہنچے
مگر دل پہ اب تک جدائی گراں ہے
تمہیں پا نہ پائے، مگر دل یہ مانے
کہ دل میں تمہارا ابھی تک مکاں ہے
زمانہ بدلتا رہا، ہم وہی ہیں
محبت ابھی تک مرا امتحاں ہے
نہ دن کو سکوں ہے، نہ شب کو اماں ہے
تری یاد ابھی تک مرا ہی جہاں ہے
مری چپ کو تم نے سنا ہی نہیں ہے
خاموشی مرے دل کی ساری زباں ہے
گلہ بھی نہیں اب، شکایت نہیں ہے
مگر درد ابھی تک مرا ہم زباں ہے
حسنؔ اب کسی سے حقیقت نہ پوچھو
کہ دل میں محبت ابھی تک جواں ہے
میر حسنؔ